حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سیبیاس کی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بمباری سے تباہ شدہ رہائشی علاقوں کو بھاری مشینری کے ذریعے صاف کرکے وہاں فوجی مراکز تعمیر کر رہی ہے؛ ایسے میں ان علاقوں میں موجود فلسطینی شہداء کی باقیات اور ممکنہ جنگی جرائم کے شواہد بھی مٹنے کا خدشہ ہے۔
سیبیاس نے سیٹلائٹ تصاویر اور عینی شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے متعدد تباہ شدہ رہائشی علاقوں کو مسمار کرنے اور ملبہ ہٹانے کے بعد وہاں فوجی تنصیبات قائم کی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں فلسطینی شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے موجود ہوسکتی ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے عزیزوں کی باقیات کے بارے میں کوئی اطلاع یا رابطہ نہیں کیا گیا۔
سیبیاس کے مطابق، تحقیقاتی ادارے فورنزک آرکیٹیکچر نے جدید معماری اور عینی شاہدین کی تحقیقاتی طریقوں کے ذریعے غزہ میں ہزاروں ایسے واقعات کا ریکارڈ تیار کیا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک قانون کے استاد نے سیبیاس کو بتایا کہ تباہ شدہ علاقوں کی صفائی اسی صورت میں قانونی ہوسکتی ہے جب لاشوں کو جمع کرکے ان کی شناخت کی جائے اور ممکنہ شواہد کو محفوظ رکھا جائے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اسرائیل کو نسل کشی کنونشن کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
سیبیاس کے مطابق، اسرائیل کا مؤقف ہے کہ بمباری سے تباہ شدہ رہائشی علاقوں کی صفائی فوجی اور تزویراتی ضرورت کے تحت کی جا رہی ہے اور یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔










آپ کا تبصرہ